تازہ ترینرشیا یوکرین

ڈرون ٹیکنالوجی کے بدلے پیٹریاٹ میزائل؟ یوکرین کی امریکہ اور خلیجی ممالک کو پیشکش

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) — مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور مہنگے فضائی دفاعی نظام پر دباؤ کے درمیان یوکرین نے اپنی کم لاگت ڈرون ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر دفاعی تعاون کے ایک نئے موقع کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یوکرین امریکہ اور خلیجی ممالک کو ایسے کم قیمت انٹرسیپٹر ڈرون فراہم کرنے کی پیشکش کر رہا ہے جو حملہ آور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یوکرین نے روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران تیزی سے اپنی دفاعی صنعت کو ترقی دی اور کم لاگت ڈرون سسٹمز تیار کیے۔ ان میں سے کئی ڈرون خاص طور پر ایرانی طرز کے شاہد ڈرونز کو روکنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، جو روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف بڑی تعداد میں استعمال کیے جا رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ اور خلیجی ممالک نے حالیہ مہینوں میں یوکرین سے ایسے ڈرون سسٹمز میں دلچسپی ظاہر کی ہے، کیونکہ خطے میں ایرانی ساختہ ڈرونز کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے بدلے انہیں ایسے جدید ہتھیاروں کی ضرورت ہے جو وہ خود تیار نہیں کر سکتے۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے مطابق یوکرین کا پیغام سادہ ہے: اگر اتحادی ممالک یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کریں تو کیف اس کے بدلے کم قیمت انٹرسیپٹر ڈرون ٹیکنالوجی اور مہارت فراہم کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں مہنگے میزائل اور کم قیمت ڈرون کے درمیان عدم توازن ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ایرانی شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً 30 ہزار ڈالر کے قریب ہوتی ہے، جبکہ اسے مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والا پیٹریاٹ میزائل لاکھوں یا بعض صورتوں میں لاکھوں ڈالر سے بھی زیادہ مہنگا ہو سکتا ہے۔

اسی مسئلے کے حل کے طور پر یوکرین نے ایسے انٹرسیپٹر ڈرون تیار کیے ہیں جن کی قیمت تقریباً ایک سے دو ہزار ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ یہ ڈرون تیز رفتار سے پرواز کرتے ہوئے دشمن کے ڈرون کو فضا میں ہی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یوکرین کے دفاعی صنعت کے بعض نمائندوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس وقت ایسے ڈرونز کی بڑی پیداواری صلاحیت موجود ہے اور وہ ہر ماہ ہزاروں کی تعداد میں انہیں تیار کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان ڈرونز کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تربیت یافتہ عملہ اور جدید ریڈار نظام بھی ضروری ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین اس ٹیکنالوجی کو عالمی دفاعی منڈی میں متعارف کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ جدید جنگی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم بعض ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ عالمی اسلحہ منڈی انتہائی پیچیدہ ہے اور اس میں داخل ہونے کے لیے مضبوط سفارتی اور معاشی حکمتِ عملی بھی درکار ہوتی ہے۔

مبصرین کے مطابق یوکرین کی یہ پیشکش نہ صرف دفاعی تعاون کو نئی شکل دے سکتی ہے بلکہ جدید جنگ میں کم لاگت ٹیکنالوجی کے بڑھتے کردار کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button