
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )دبئی — ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد نئے رہنما کے انتخاب کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مقصد کے لیے ذمہ دار مذہبی ادارہ مجلسِ خبرگان نئے سپریم لیڈر کے نام پر تقریباً اکثریتی اتفاقِ رائے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مجلسِ خبرگان کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے معاملے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس عمل میں ابھی چند رکاوٹیں باقی ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجلسِ خبرگان کے ارکان آئندہ ایک اہم اجلاس میں حتمی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ یہ ادارہ ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے اور اس کے ارکان سینئر مذہبی شخصیات پر مشتمل ہوتے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حوالے سے ادارے کے اندر ایک معمولی اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ بعض ارکان کا خیال ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اعلان باقاعدہ اجلاس اور ووٹنگ کے بعد ہونا چاہیے، جبکہ کچھ کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں بغیر رسمی اجلاس کے بھی فیصلہ جاری کیا جا سکتا ہے۔

مجلسِ خبرگان کے ایک اور رکن آیت اللہ محسن حیدری نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث تمام ارکان کا ایک جگہ جمع ہونا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے انتخابی عمل کے طریقہ کار پر غور جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں مرحوم رہنما کی رہنمائی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایسا رہنما منتخب کیا جانا چاہیے جو ایران کے دشمنوں کے لیے قابل قبول نہ ہو بلکہ مضبوط موقف رکھنے والا ہو۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری فوجی کارروائیوں کے باعث ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئے سپریم لیڈر کا انتخاب نہ صرف ایران کی داخلی سیاست بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی صورتحال پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران کی قیادت کے حوالے سے ہونے والا فیصلہ خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی سفارتی توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔



