ایرانتازہ ترین

کیا ایران نے اسماعیل قاآنی کو جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی؟ حقیقت کیا ہے؟

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کے طاقتور فوجی ادارے پاسدارانِ انقلاب کے اہم ونگ فیلڈس القدس (Quds Force) کے کمانڈر اسماعیل قاآنی کے بارے میں ان دنوں کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد ممکنہ طور پر پھانسی دی جا چکی ہے۔ تاہم اب تک ایران کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

موجودہ جنگی صورتحال کے دوران قاآنی کی اچانک خاموشی اور منظرِ عام سے غائب ہونے نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں میں کئی اعلیٰ ایرانی عسکری اور سکیورٹی رہنما ہلاک ہوئے تھے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔ اس کے بعد سکیورٹی اداروں کے اندر ممکنہ انٹیلی جنس لیک یا اندرونی معلومات فراہم کیے جانے کے بارے میں بحث شروع ہو گئی۔

کچھ غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو ملنے والی "اہم خفیہ معلومات” کی بنیاد پر خطے میں کئی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ اور ان کے قریبی ساتھی بھی شامل تھے۔ اسی تناظر میں بعض حلقوں نے شبہ ظاہر کیا کہ ایرانی سکیورٹی اداروں کے اندر کسی اعلیٰ سطح پر معلومات فراہم کی گئی ہوں گی۔

ان افواہوں میں اسماعیل قاآنی کا نام بھی سامنے آیا، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت یا سرکاری بیان موجود نہیں ہے۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا کہ قاآنی کو ایران واپس آنے کے بعد پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا، لیکن یہ معلومات بھی آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

اسماعیل قاآنی کو ایران کے سابق طاقتور کمانڈر قاسم سلیمانی کے بعد 2020 میں فیلڈس القدس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، جب سلیمانی امریکی ڈرون حملے میں بغداد میں ہلاک ہو گئے تھے۔ قاآنی اس سے قبل کئی برس تک سلیمانی کے نائب رہے اور ایران کے علاقائی نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

ایرانی مبصرین کے مطابق حالیہ جنگ نے ایران کے سکیورٹی ڈھانچے اور انٹیلی جنس نظام کے بارے میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ایرانی جوہری سائنس دانوں، فوجی کمانڈروں اور بعض سیاسی شخصیات کے قتل یا پراسرار واقعات نے بھی اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ آیا ایرانی اداروں میں بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی رسائی بڑھ چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت قاآنی کے بارے میں گردش کرنے والی زیادہ تر معلومات افواہوں یا نفسیاتی جنگ (information warfare) کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں، جو جنگی حالات میں عام طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ جب تک ایران کی حکومت یا معتبر بین الاقوامی ذرائع اس حوالے سے واضح موقف پیش نہیں کرتے، اس معاملے کو حتمی طور پر درست یا غلط قرار دینا مشکل ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button