
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران۔امریکہ۔اسرائیل جنگ کے دوران ایک نئی رپورٹ نے عالمی سفارتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دو ایرانی کارگو جہاز چین کے ایک کیمیکل بندرگاہ سے ایران کے لیے روانہ ہوئے ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ان پر میزائل ایندھن میں استعمال ہونے والا کیمیائی مادہ لادا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا، سیٹلائٹ تصاویر اور امریکی محکمہ خزانہ کے ریکارڈ کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ “شبدیس” (Shabdis) اور “برزین” (Barzin) نامی جہاز چین کے جنوب مشرقی ساحلی شہر ژوہائی (Zhuhai) کے گاؤلان بندرگاہ سے روانہ ہوئے۔ یہ دونوں جہاز ایران کی سرکاری شپنگ کمپنی اسلامک ریپبلک آف ایران شپنگ لائنز (IRISL) کی ملکیت ہیں، جس پر امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین پہلے ہی پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گاؤلان بندرگاہ چین کے بڑے کیمیکل ذخیرہ مراکز میں شمار ہوتی ہے جہاں سوڈیم پرکلوریٹ (Sodium Perchlorate) جیسے کیمیائی مادے لوڈ کیے جاتے ہیں۔ یہ مادہ ٹھوس راکٹ ایندھن بنانے کے لیے استعمال ہونے والے اہم اجزا میں شامل سمجھا جاتا ہے اور ایران کے میزائل پروگرام کے لیے اس کی خاص اہمیت بتائی جاتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی یہ کیمیکل ایران منتقل کیا جا رہا ہے تو اس سے ایران کے میزائل پروگرام کو تقویت مل سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جنگی کشیدگی عروج پر ہے۔
چین کا مؤقف
دوسری جانب چین نے اس معاملے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایک بیان میں کہا کہ بیجنگ مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر “غیر جانبدار اور متوازن مؤقف” رکھتا ہے اور خطے میں فوری جنگ بندی کا حامی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور مسائل کا سیاسی حل تلاش کریں۔

قانونی پیچیدگی
رپورٹ کے مطابق سوڈیم پرکلوریٹ خود بین الاقوامی میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم (MTCR) کے تحت براہِ راست ممنوعہ مادہ نہیں ہے، تاہم اس سے بننے والا امونیم پرکلوریٹ میزائل ایندھن کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی برآمدات پر پابندیاں عائد ہیں۔
امریکی حکام اس سے قبل بھی متعدد چینی کمپنیوں پر ایران کو میزائل پروگرام سے متعلق مواد فراہم کرنے کا الزام لگا چکے ہیں۔ 2025 میں امریکہ نے ایسی کئی کمپنیوں اور نیٹ ورکس پر پابندیاں عائد کی تھیں جن پر ایران کو میزائل ایندھن کے اجزا فراہم کرنے کا شبہ تھا۔
بڑھتی ہوئی عالمی تشویش
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کے دوران اس طرح کے مواد کی ترسیل جاری رہتی ہے تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض مغربی تجزیہ کار اس معاملے کو ایران اور چین کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور معاشی تعاون کی ایک نئی مثال قرار دے رہے ہیں۔
فی الحال اس بات کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ ان جہازوں پر واقعی میزائل ایندھن سے متعلق مواد موجود ہے یا نہیں، تاہم اس انکشاف نے عالمی سفارتی اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔



