ایرانتازہ ترین

ایران جنگ نے ولادیمیر پیوٹن کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ایک پیچیدہ سفارتی اور سیاسی صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ اس تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق یہ فائدہ روس کی کمزور ہوتی عالمی پوزیشن کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان گزشتہ برسوں میں قریبی تعلقات قائم ہوئے، حتیٰ کہ 2025 میں دونوں ممالک نے طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ بھی کیا تھا جس کا مقصد دفاعی، اقتصادی اور سیاسی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

روس کا محتاط ردعمل

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد روس نے سخت الفاظ میں مذمت تو کی، لیکن عملی طور پر براہِ راست مداخلت سے گریز کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی قیادت سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے واضح کیا کہ یہ تنازع “روس کی جنگ نہیں ہے” اور ماسکو اپنے قومی مفادات کے مطابق ہی اقدامات کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق روس ایک اور بڑے تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے بچنا چاہتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ پہلے ہی یوکرین کی جنگ میں مصروف ہے۔

روس کے لیے ممکنہ فوائد اور خطرات

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران جنگ سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث روس کو وقتی اقتصادی فائدہ ہو سکتا ہے۔ اگر خلیجی خطے میں تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو روسی توانائی کی برآمدات کی طلب بڑھ سکتی ہے۔

تاہم دوسری جانب یہ جنگ روس کی سفارتی کمزوری کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ کی کارروائیوں کے نتیجے میں روس اپنے دو اہم اتحادیوں — وینزویلا اور ایران — کو مؤثر مدد فراہم کرنے میں ناکام نظر آیا ہے، جس سے اس کے عالمی اثر و رسوخ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی اہم

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیوٹن اس بحران میں محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں کیونکہ وہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ سفارتی رابطوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہتے۔ بعض مبصرین کے مطابق روس کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر خراب کرنا اس وقت فائدہ مند نہیں ہوگا، خاص طور پر جب یوکرین جنگ کے حوالے سے مستقبل کی بات چیت کا امکان موجود ہے۔

عالمی سیاست پر اثرات

ماہرین کے مطابق ایران جنگ نے عالمی طاقتوں کے توازن کو نئی سمت دے دی ہے۔ ایک طرف توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ رہا ہے، تو دوسری جانب بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے مطابق نئی حکمتِ عملی ترتیب دے رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں روس کی پالیسی بظاہر “انتظار کرو اور دیکھو” کی حکمتِ عملی پر مبنی ہے، جس کے تحت وہ براہِ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے اس بحران سے ممکنہ سفارتی اور اقتصادی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button