تازہ ترینترکی

ترکی کا شمالی قبرص میں ایف-16 لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ترکی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر شمالی قبرص میں اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی آج چھ ایف-16 لڑاکا طیارے شمالی قبرص میں تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہاں موجود ترک قبرصی آبادی کے دفاع کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ترک نشریاتی ادارے این ٹی وی نے ایک سول ایوی ایشن عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ یہ طیارے شمالی قبرص میں تعینات کیے جائیں گے، جسے ترکی کی حمایت حاصل ہے اور جو بین الاقوامی سطح پر محدود تسلیم شدہ ریاست سمجھی جاتی ہے۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی سلامتی خدشات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ترکی کی وزارتِ دفاع کے ایک ذریعے نے بھی گزشتہ دنوں تصدیق کی تھی کہ انقرہ شمالی قبرص کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہا ہے، جن میں ایف-16 طیاروں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم خطے میں پھیلتی ہوئی جنگی صورتحال کے باعث اٹھایا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔اسرائیل کشیدگی کے باعث پورے خطے میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی ممالک اپنی فوجی تیاریوں اور دفاعی انتظامات کو مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق شمالی قبرص میں ترکی کے لڑاکا طیاروں کی تعیناتی نہ صرف دفاعی پیغام ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ انقرہ خطے میں اپنے اتحادیوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو بحیرہ روم اور قریبی علاقوں میں بھی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس سے خطے کی سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

ادھر خطے میں کشیدگی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ قبرص میں برطانوی فوجی اڈوں کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں قبرص کے قریب ڈرون حملوں اور فوجی نقل و حرکت کی اطلاعات نے سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران۔اسرائیل جنگ مزید پھیلتی ہے تو بحیرہ روم کے علاقے میں بھی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ترکی کی جانب سے شمالی قبرص میں لڑاکا طیاروں کی تعیناتی کو خطے میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر ایک احتیاطی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button