
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اہم سمندری گزرگاہ Strait of Hormuz میں نقل و حرکت متاثر ہونے کے باعث Saudi Arabia نے تیل کی پیداوار میں کمی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث سعودی آئل اسٹوریج تیزی سے بھر رہے ہیں، جس کی وجہ سے پیداوار کو عارضی طور پر کم کرنا پڑ رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی حکام اس دوران تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے متبادل راستوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ عالمی منڈی کو سپلائی متاثر نہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت مزید محدود ہوتی ہے تو خلیجی ممالک کے لیے تیل کی ترسیل ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے اس فیصلے سے قبل خلیج کے دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی پیداوار میں کمی کر چکے ہیں۔ ان ممالک میں United Arab Emirates، Kuwait اور Iraq شامل ہیں، جنہوں نے حالیہ دنوں میں تیل کی سپلائی کو منظم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے پاس خطے میں تیل ذخیرہ کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے، جس کی مدد سے وہ عارضی رکاوٹوں کے باوجود عالمی منڈی کو سپلائی برقرار رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تاہم اگر صورتحال طویل ہو گئی تو اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں اور توانائی کی منڈی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین کے لیے اہم مسئلہ بن سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ اور بڑھتی کشیدگی کے باعث سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے اور برآمدات جاری رکھنے کے لیے متبادل راستے تلاش کیے جا رہے ہیں، جبکہ ماہرین عالمی تیل مارکیٹ پر ممکنہ اثرات سے خبردار کر رہے ہیں۔



