ایرانتازہ ترین

عالمی تیل راستہ خطرے میں؟ آبنائے ہرمز کے قریب درجنوں جہاز جمع ہونے کا انکشاف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

خلیج کی اہم سمندری گزرگاہ Strait of Hormuz کے قریب حالیہ دنوں میں درجنوں بحری جہازوں کے غیر معمولی گروپ دیکھے گئے ہیں، جس کے بعد ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس علاقے میں الیکٹرانک سگنلز میں مداخلت یا نیویگیشن سسٹمز میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔

بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ذرائع کے مطابق کم از کم ایک درجن مقامات پر جہازوں کے بڑے گروپ نمودار ہوئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے غیر معمولی پیٹرن عموماً اس وقت سامنے آتے ہیں جب جہازوں کے جی پی ایس یا دیگر نیویگیشن سگنلز متاثر ہو جائیں، جس کے باعث جہاز اپنی درست پوزیشن ظاہر نہیں کر پاتے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور United States اور Israel کے ساتھ Iran کے تنازع کے باعث خلیج کی سمندری گزرگاہیں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تیل سپلائی اور تجارتی راستوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

توانائی اور سمندری تجارت کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی بڑی مقدار ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں تک منتقل کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں معمولی خلل بھی عالمی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر سکتا ہے۔

بحری سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بعض آئل ٹینکرز نے رفتار بڑھا دی ہے جبکہ کئی جہاز حفاظتی فاصلے کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاز رانی کی صنعت ممکنہ خطرات کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس اہم آبی گزرگاہ میں الیکٹرانک مداخلت یا سیکیورٹی خدشات برقرار رہے تو اس سے نہ صرف جہاز رانی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ اور سمندری تجارت سے وابستہ ادارے اس صورتحال کو انتہائی قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button