
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی حکام اور دفاعی ذرائع کے مطابق Iran کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو مکمل طور پر قبضے میں لینے یا تباہ کرنے کے لیے صرف فضائی حملے کافی نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے بڑی تعداد میں امریکی زمینی فوج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال امریکی حملوں میں ایران کی چند جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے باوجود ایران کے تمام افزودہ یورینیم ذخائر ختم نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اس مواد کا بڑا حصہ ایران کے اہم جوہری مرکز Isfahan Nuclear Facility میں زیرِ زمین محفوظ رکھا گیا ہے۔

امریکی صدر Donald Trump اس جنگ کے دوران ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کو اپنی بڑی ترجیح قرار دے چکے ہیں۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق زیرِ زمین سرنگوں میں موجود افزودہ یورینیم تک پہنچنا ایک پیچیدہ اور خطرناک فوجی مشن ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے International Atomic Energy Agency کے سربراہ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی تقریباً 200 کلوگرام کے قریب انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہو سکتا ہے، جس کا کچھ حصہ اصفہان جبکہ کچھ Natanz Nuclear Facility میں محفوظ ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مواد اگرچہ توانائی کے مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کی افزودگی 90 فیصد کے قریب پہنچ جائے تو اسے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ اندازوں کے مطابق ایران کا یورینیم تقریباً 60 فیصد تک افزودہ ہے۔

دفاعی ذرائع کے مطابق اگر امریکا اس مواد کو قبضے میں لینے کے لیے کارروائی کرتا ہے تو اس میں خصوصی کمانڈو یونٹس، بم ناکارہ بنانے والے ماہرین اور اضافی فوجی دستوں کی بڑی تعداد شامل ہو سکتی ہے۔ اس قسم کے آپریشن میں زیرِ زمین سرنگوں میں داخل ہونا، تابکار مواد کو محفوظ بنانا اور علاقے کی سکیورٹی برقرار رکھنا ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہو سکتا ہے۔
ادھر ایران کی قیادت بھی جنگی دباؤ کے باوجود برقرار دکھائی دیتی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایران کے سابق سپریم لیڈر Ali Khamenei کے بعد ان کے بیٹے Mojtaba Khamenei کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لایا گیا ہے، جسے ایران کے سیاسی نظام میں تسلسل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا صرف فوجی کارروائی سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے سفارتی مذاکرات اور بین الاقوامی دباؤ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس معاملے کو انتہائی حساس اور پیچیدہ مسئلہ قرار دے رہی ہیں۔



