
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ایرانی حکام نے اس معاملے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہ ہونے کا اشارہ دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کے خصوصی ایلچی Steve Witkoff نے ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا تہران جنگ بندی کے کسی ممکنہ فارمولے پر بات چیت کے لیے تیار ہے یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق اس رابطے کا مقصد موجودہ جنگی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایران نے اس وقت کسی قسم کی بات چیت میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل میں اس وقت جنگ روکنے یا فوری جنگ بندی کے حوالے سے کوئی باضابطہ بحث زیر غور نہیں ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق موجودہ حالات میں تہران اپنی فوجی حکمت عملی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطے عموماً خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آتے ہیں۔ تاہم اس بار دونوں فریقوں کے مؤقف میں سختی کے باعث فوری سفارتی پیش رفت مشکل دکھائی دے رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے امکانات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا فریقین میدانِ جنگ میں دباؤ کم کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



