
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم سوال سامنے آ رہا ہے کہ آیا خلیجی ممالک ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں عملی طور پر شامل ہوں گے یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے اور خلیجی ریاستیں ایک مشکل سفارتی اور سکیورٹی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں Iran کی جانب سے ہزاروں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن کا ہدف خلیجی ممالک میں موجود امریکی مفادات یا عسکری تنصیبات بتائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان حملوں کا اثر مختلف ممالک میں مختلف سطح پر دیکھا گیا، لیکن خطے کے تقریباً تمام ممالک اس کشیدگی کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔
خلیج کے چھ ممالک پر مشتمل Gulf Cooperation Council ماضی میں بھی مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی بنانے میں مشکلات کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کے درمیان خارجہ پالیسی کے اختلافات اور علاقائی ترجیحات کی وجہ سے کسی بھی مشترکہ فوجی اقدام پر اتفاق رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ کئی ممالک کا خیال ہے کہ براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے داخلی سلامتی، توانائی کی تنصیبات اور معاشی استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب بعض خلیجی ریاستیں امریکا کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کے باعث دباؤ میں بھی ہیں۔ خطے میں United States کے متعدد فوجی اڈے موجود ہیں، جس کی وجہ سے خلیجی ممالک کو اکثر اس کشیدگی کا براہِ راست اثر برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف اپنی سلامتی کو یقینی بنائیں اور دوسری جانب خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کریں۔ اسی لیے کئی ممالک سفارتی راستوں اور علاقائی مذاکرات کو ترجیح دینے کی بات کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف خلیج بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور عالمی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے خطے کے ممالک محتاط حکمتِ عملی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔



