
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کے چند دن بعد United States اور Israel کے درمیان جنگ کے مستقبل کے حوالے سے مؤقف میں فرق سامنے آنے لگا ہے۔ مبصرین کے مطابق بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں اور امریکی عوام میں جنگ کی کم حمایت امریکی صدر Donald Trump کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران پر حملوں کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں تیزی آئی ہے، خاص طور پر Strait of Hormuz میں کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی پر خدشات پیدا ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی سیاست میں حساس مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اس کا براہِ راست اثر عوامی رائے اور معاشی صورتحال پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل میں اس جنگ کی نسبتاً زیادہ حمایت دیکھی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت کے قریبی حلقوں کا مؤقف ہے کہ Benjamin Netanyahu کی قیادت میں ایران کی فوجی طاقت کو مستقل طور پر کمزور کرنا ایک اہم مقصد ہے تاکہ مستقبل میں اسرائیل کو درپیش خطرات کم کیے جا سکیں۔

امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے مقاصد بظاہر ایک جیسے نظر آتے ہیں، لیکن طویل المدتی حکمت عملی میں فرق موجود ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایک طویل جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے دنیا کے دیگر خطوں میں بھی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیل اپنے سکیورٹی خدشات کے باعث ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھتا ہے۔
امریکا میں عوامی رائے بھی اس جنگ کے حوالے سے تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق ایک بڑی تعداد امریکی فوجی کارروائی کے خلاف ہے جبکہ کچھ حلقے اسے خطے میں استحکام کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ صورتحال Benjamin Netanyahu کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اسرائیل میں رواں سال انتخابات متوقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت امریکی حمایت کو اپنی داخلی سیاست میں ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے واشنگٹن میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ جنگ کو محدود رکھا جائے یا سفارتی راستے تلاش کیے جائیں۔



