
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران Iran نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی سرزمین پر زمینی یا فضائی کارروائی کی تو ایرانی فورسز اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملک کی فوجی اور سیکیورٹی فورسز کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ایک سینیئر سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ اگر امریکی افواج ایران کے حساس علاقوں یا جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں تو یہ ایرانی فورسز کے لیے ایک “موقع” ہو سکتا ہے کہ وہ حملہ آور فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کریں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے ایسے کسی ممکنہ تصادم کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف علاقائی تنازعات سے اہم عسکری تجربہ حاصل کیا ہے، جس سے اس کی دفاعی حکمتِ عملی مضبوط ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی دفاعی پالیسی میں بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کو اہم کردار حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران طویل عرصے سے ممکنہ بیرونی حملوں کے خلاف دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق اگر زمینی فوجی کارروائی کی جاتی ہے تو یہ ایک بڑے اور پیچیدہ تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی پہلے ہی عالمی سیاست اور توانائی مارکیٹ کو متاثر کر رہی ہے۔ ایسے میں کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے نتیجے میں خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔



