ایرانتازہ ترین

ایران امریکا تصادم؛ ایران کا 5 نکاتی جنگی پلان

عالمی سیکیورٹی ڈیسک | خصوصی تجزیاتی رپورٹ

ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک برطانوی اخبار The Telegraph نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں تہران نے کثیر الجہتی (multi-front) حکمتِ عملی تیار کر رکھی ہے، جس کا مقصد براہِ راست تصادم کے بجائے خطے بھر میں دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ علاقائی اتحادیوں، سمندری راستوں اور سائبر محاذ کو استعمال کر سکتا ہے تاکہ طویل المدتی اور مہنگی جنگ کی صورتحال پیدا کی جا سکے۔

مبینہ 5 نکاتی حکمتِ عملی کیا ہو سکتی ہے؟

1️⃣ علاقائی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا

رپورٹ کے مطابق خطے میں موجود امریکی تنصیبات، خصوصاً خلیجی ممالک اور اسرائیل میں واقع اڈے، ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا مقصد امریکا کی آپریشنل صلاحیت محدود کرنا ہو سکتا ہے۔

2️⃣ پراکسی نیٹ ورک کا استعمال

یمن، لبنان اور عراق میں موجود حامی گروہوں کے ذریعے دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے، تاکہ براہِ راست محاذ کے بجائے بکھرے ہوئے حملوں کی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔

3️⃣ سمندری محاذ پر دباؤ

خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ یا امریکی بحری بیڑوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی کوششیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

4️⃣ آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔

5️⃣ سائبر اور الیکٹرانک وارفیئر

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر سائبر حملوں اور الیکٹرانک حربوں کے ذریعے مواصلاتی، توانائی اور مالیاتی نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، جسے جدید جنگی حکمتِ عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کی رائے: براہِ راست جنگ کے بجائے دباؤ کی پالیسی؟

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی حکمتِ عملی کا مقصد روایتی میدانِ جنگ کے بجائے معاشی اور نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہوتا ہے، تاکہ مخالف فریق طویل تنازع سے گریز کرے۔

عالمی منڈیوں میں پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر خلیجی خطہ متاثر ہوا تو:

تیل کی قیمتوں میں تیزی آ سکتی ہے عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے

سفارتی امکانات اب بھی موجود

مبصرین کے مطابق کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے لیے سفارت کاری اب بھی سب سے کم لاگت اور مؤثر راستہ ہے۔ بین الاقوامی طاقتیں تنازع کے بجائے مذاکرات کی حمایت کر رہی ہیں تاکہ خطے میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

نتیجہ

رپورٹس میں سامنے آنے والی یہ حکمتِ عملی ممکنہ منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے، حتمی پالیسی نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ کسی بھی تصادم کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اور عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button