
خرمشہر 4 میزائل صرف 10 منٹ میں اسرائیل پہنچ سکتا ہے
تہران | تازہ حالات خصوصی دفاعی رپورٹ
ایران میں جاری علاقائی کشیدگی اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیشِ نظر ایران نے خرمشہر 4 نامی اب تک کا سب سے زیادہ طاقتور بیلسٹک میزائل زیرِ زمین خفیہ فوجی اڈوں پر تعینات کر دیا ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ میزائل جدید دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور اسے ملک کی اسٹریٹجک ڈیٹرنس (باز deterrence) صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ میزائل تقریباً دس منٹ میں اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس کی رینج 2000 کلومیٹر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
میزائل کی نمایاں خصوصیات
دستیاب معلومات کے مطابق:
رینج: 2000 کلومیٹر سے زیادہ رفتار: 16 ماخ سے زائد وار ہیڈ: 1500 کلوگرام تک لے جانے کی صلاحیت درستگی: تقریباً 30 میٹر تک جدید ترین ٹیکنالوجی کے باعث اسے انٹرسیپٹ کرنا مشکل قرار دیا جا رہا ہے
مزید بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام میں مبینہ طور پر شمالی کوریا اور چین کے تکنیکی تعاون کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق محدود ہے۔
دفاعی نظام کے لیے چیلنج؟
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ رفتار اور زیرِ زمین لانچ تنصیبات کی وجہ سے ایسے میزائلوں کو روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی ساختہ تھاڈ (THAAD) یا اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو ایسے اہداف کے خلاف فوری ردعمل میں چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی کارکردگی کا انحصار عملی صورتحال پر ہوتا ہے۔
اسٹریٹجک پیغام
ماہرین کے مطابق خرمشہر–4 کی تعیناتی کو ایران کی جانب سے دفاعی تیاری اور باز deterrence کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں طاقت کے توازن اور سیکیورٹی ماحول کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اور اسے براہِ راست جنگی اقدام کے بجائے دفاعی صلاحیت میں اضافے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
نتیجہ
خرمشہر–4 کی تعیناتی ظاہر کرتی ہے کہ ایران اپنی میزائل ٹیکنالوجی اور زیرِ زمین دفاعی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ موجودہ علاقائی صورتحال میں ایسی پیش رفتیں مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی اور عالمی سفارتی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔



