
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس میں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کے قریب ایک نئی آئل ریفائنری بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ریفائنری براؤنزویل (Brownsville) بندرگاہ کے قریب تعمیر کی جائے گی اور اس منصوبے میں بھارتی توانائی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو امریکی توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف ملک میں تیل صاف کرنے کی صلاحیت بڑھے گی بلکہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
منصوبے کے مطابق نئی ریفائنری روزانہ تقریباً 1 لاکھ 68 ہزار بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھے گی۔ منصوبے سے وابستہ کمپنی امریکہ فرسٹ ریفائننگ کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے طویل مدت میں امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور امریکہ میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں امریکی سیاست میں بھی ایک اہم موضوع بن چکی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں اور دونوں بڑی سیاسی جماعتیں توانائی اور معیشت کے مسائل کو انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو امریکہ کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور ملک توانائی کے شعبے میں اپنی خود کفالت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ تاہم بعض ماہرین نے ماحولیاتی اثرات اور لاگت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع اور نئے انفراسٹرکچر منصوبوں پر توجہ بڑھ رہی ہے، اور ٹیکساس میں مجوزہ ریفائنری اسی رجحان کی ایک مثال سمجھی جا رہی ہے۔



