ایرانتازہ ترین

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظرعام پر نہ آئے، پس پردہ قوتوں پر سوالات

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے بعد بھی ان کی جانب سے کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث ملک کے اندر اور بیرونِ ملک سیاسی حلقوں میں کئی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کی تقرری میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (ریولوشنری گارڈز) نے اہم کردار ادا کیا اور بعض اختلافات کے باوجود یہ فیصلہ تیزی سے منظور کرایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق ایران کی طاقتور فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنانے کے لیے مذہبی اور سیاسی قیادت پر دباؤ ڈالا۔ بعض سینئر علما اور سیاسی شخصیات کو اس فیصلے پر تحفظات تھے، جس کے باعث تقرری کے اعلان میں چند گھنٹوں کی تاخیر بھی ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتی ہے جو ان کی سخت گیر پالیسیوں کی حمایت کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد ایران کی مستقبل کی پالیسیوں میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا اثر مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تقرری کے تقریباً دو دن گزرنے کے باوجود مجتبیٰ خامنہ ای نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی وہ عوامی سطح پر نظر آئے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے باعث شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران میں ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں فضائی حملوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں نئے سپریم لیڈر کی خاموشی ایران کے اندر طاقت کے توازن اور فیصلہ سازی کے عمل کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اگر پاسدارانِ انقلاب کا اثر اسی طرح بڑھتا رہا تو ایران کی خارجہ اور دفاعی پالیسی مزید سخت رخ اختیار کر سکتی ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کے اندرونی سیاسی ڈھانچے اور خطے میں اس کی حکمت عملی آنے والے مہینوں میں عالمی سیاست پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button