ایرانتازہ ترین

ایران جنگ کے 11 دن بعد اسرائیل میں میزائل حملوں سے نقصان گزشتہ سال سے کم

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے گیارہ دن گزرنے کے بعد سامنے آنے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مرتبہ میزائل حملوں سے ہونے والا مجموعی نقصان گزشتہ سال کے مقابلے میں نسبتاً کم رہا ہے۔ اسرائیل کی ٹیکس اتھارٹی کے مطابق اب تک میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کے 9 ہزار سے زائد دعوے جمع کرائے جا چکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 9,115 نقصانات کے دعوے موصول ہوئے ہیں جن میں 6,586 عمارتوں کو نقصان، 1,044 گھریلو سامان اور دیگر اشیاء کو نقصان جبکہ 1,485 گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات شامل ہیں۔ سب سے زیادہ نقصانات کے دعوے تل ابیب سے سامنے آئے ہیں جہاں 4,600 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ میں ایران کی جانب سے میزائلوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔ گزشتہ سال جون میں ایران نے تقریباً 1,600 میزائل اور ڈرون داغے تھے جبکہ موجودہ جنگ میں اب تک یہ تعداد 600 سے کم بتائی جا رہی ہے۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیل میں خطرے کے سائرن کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اب تک 42 ہزار سے زائد وارننگ الرٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیلی ماہرین کے مطابق اس مرتبہ ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ پچھلے سال زیادہ تر بڑے وارہیڈ والے میزائل استعمال کیے گئے تھے جو پوری عمارتوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، جبکہ اس بار زیادہ تر کلسٹر میزائل استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے دھماکہ خیز حصے مختلف سمتوں میں پھیل جاتے ہیں۔

ان میزائلوں کے باعث کسی ایک عمارت کی مکمل تباہی کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں، تاہم ان کے ٹکڑوں سے وسیع علاقے میں لوگوں اور املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے کئی مقامات پر عمارتیں مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں لیکن شیشے، دیواریں اور گاڑیاں متاثر ہوئیں۔

اسرائیلی انجینئرنگ ماہرین کے مطابق گزشتہ سال بعض میزائل حملوں میں لگژری ٹاورز اور بلند عمارتیں شدید متاثر ہوئیں تھیں جس کے باعث نقصانات کا حجم اربوں شیکل تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ جنگ میں مالی نقصان کا تخمینہ چند سو ملین شیکل تک بتایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ موجودہ جنگ میں براہ راست مادی نقصان کم نظر آ رہا ہے، تاہم شہری علاقوں میں سائرن، پناہ گاہوں اور مسلسل حملوں کے خطرے نے اسرائیلی معاشرے پر شدید نفسیاتی دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ جاری رہی تو نقصان کے اعداد و شمار مزید بڑھ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button