
ایران جلد 6000 بیلسٹک میزائل بنالے گا!
تازہ حالات خصوصی رپورٹ
ایران، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ مذاکرات کا سخت مخالف ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف کا ہنگامی دورۂ واشنگٹن
اسی تناظر میں اسرائیلی آرمی چیف ایال زامیر نے واشنگٹن کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ڈین کین سے خفیہ ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ایران کے خلاف مبینہ منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
خفیہ انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی
عبرانی میڈیا یروشلم پوسٹ، یدیعوت احرنوت اور معاریف کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے امریکی فوجی حکام کو خصوصی انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں، جن میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق اہم اور حساس معلومات شامل تھیں۔

اسرائیلی آرمی چیف نے بتایا کہ ایران تیزی سے اپنے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے میں اضافہ کر رہا ہے۔
ایرانی میزائل صلاحیت سے متعلق دعوے
رپورٹس کے مطابق:
ایران نے ہر ماہ 300 سے زائد بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے اس عمل میں مبینہ طور پر چین سے تعاون بھی شامل ہے ایران کے پاس اس وقت تقریباً 2000 بیلسٹک میزائل موجود ہیں
ذرائع کے مطابق اگر ایران اسی رفتار سے میزائلوں کی تیاری جاری رکھتا ہے تو اگلے چند ماہ میں ایران کے پاس 6000 سے زائد بیلسٹک میزائل ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی ایئر ڈیفنس پر خدشات
عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں سے نمٹنے کے لیے اسرائیل کے پاس موجود ایئر ڈیفنس سسٹمز ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکی حکام ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرنے کے لیے اسرائیل کا ساتھ دیں، اور یہ کام ایران سے مذاکرات کے ذریعے مشکل ہی انجام پایا جا سکتا ہے، جس کے لیے بھرپور فوجی کارروائی ضروری ہوگی۔

نیتن یاہو کی امریکی قیادت کو بریفنگ
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دسمبر کے آخر میں امریکی دورے کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے میزائل پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی تھی۔

اس موقع پر امریکا کو خبردار کیا گیا تھا کہ ایران بہت جلد ایسا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) تیار کر سکتا ہے جو امریکا سمیت یورپ کے کسی بھی حصے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔
اسرائیلی تشویش: اصل خطرہ کیا ہے؟
عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل ایران کے ایٹمی پروگرام کے مقابلے میں بیلسٹک میزائل پروگرام کو زیادہ خطرناک سمجھتا ہے، کیونکہ بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے ہی ایران جوہری وار ہیڈ اسرائیل تک داغ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اگر بیلسٹک میزائل موجود نہ ہوں تو ایران چاہے ایٹم بم بنا لے، مگر انہیں اسرائیل تک پہنچانا انتہائی مشکل ہوگا۔

(ادارتی نوٹ)
یہ رپورٹ علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس پر مبنی ہے، اور اس میں پیش کیے گئے دعوے متعلقہ ذرائع کے حوالے سے بیان کیے گئے ہیں۔



