امریکاتازہ ترین

امریکہ کا “ڈومز ڈے طیارہ” کیلیفورنیا کے اوپر پرواز کرتے دیکھا گیا، ایران کشیدگی کے دوران تشویش میں اضافہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ کے انتہائی خفیہ اور اسٹریٹجک طیاروں میں شمار ہونے والا “ڈومز ڈے طیارہ” (Doomsday Plane) ایک بار پھر کیلیفورنیا کی فضاؤں میں پرواز کرتے دیکھا گیا ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور دفاعی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کا بوئنگ E-6B مرکری (Boeing E-6B Mercury) طیارہ گزشتہ دنوں کیلیفورنیا کے شہر فریسنو (Fresno) کے اوپر نچلی پرواز کرتے دیکھا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق طیارے نے تقریباً دو گھنٹے تک فضائی مشقیں کیں جن میں متعدد موک لینڈنگ (فرضی لینڈنگ) کی مشقیں شامل تھیں۔

یہ طیارہ امریکہ کے انتہائی اہم اسٹریٹجک نظام کا حصہ ہے اور اسے عام طور پر “ڈومز ڈے طیارہ” کہا جاتا ہے۔ اگر کسی ہنگامی صورتحال یا جوہری جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے تو یہی طیارہ امریکی صدر اور فوجی قیادت کے لیے موبائل کمانڈ سینٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق E-6B مرکری طیارہ فضاء میں رہتے ہوئے امریکی جوہری ہتھیاروں کے پورے نظام کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے اسٹریٹجک بمبار طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور جوہری آبدوزوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

یہ طیارہ تقریباً 12 گھنٹے تک بغیر ایندھن بھرے پرواز کر سکتا ہے جبکہ فضاء میں ایندھن بھرنے کی صلاحیت کے باعث اس کی پرواز کا دورانیہ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر زمینی کمانڈ مراکز تباہ ہو جائیں تب بھی یہ عالمی سطح پر فوجی رابطہ برقرار رکھ سکے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے طیارے دراصل فضاء میں موجود متحرک پینٹاگون کی طرح کام کرتے ہیں۔ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے بیک وقت مختلف جوہری ہتھیاروں کے نظام کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس طیارے کو حالیہ مہینوں میں کیلیفورنیا کے اوپر دیکھا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی سال کے آغاز میں یہ طیارہ لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب دیکھا گیا تھا، جس کے بعد مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئی تھیں۔ اس وقت امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اپنے دورے کے دوران اس طیارے میں سفر کر رہے تھے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے طیاروں کی سرگرمیوں میں اضافہ عام طور پر فوجی تیاریوں یا ہنگامی مشقوں کا حصہ ہوتا ہے، تاہم موجودہ عالمی کشیدگی کے باعث اس کی پرواز نے عوام اور ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے بھی جوابی حملوں اور سخت ردعمل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں امریکی فوج کی اسٹریٹجک سرگرمیوں کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button