
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی انٹیلی جنس اداروں کے حالیہ جائزے کے مطابق Iran کی موجودہ قیادت اور حکومتی ڈھانچہ اب بھی مستحکم ہے اور قریبی مستقبل میں حکومت کے گرنے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا۔ اس بارے میں تین باخبر ذرائع نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس مسلسل اس نتیجے پر پہنچ رہی ہیں کہ ایران کی ریاستی مشینری ابھی تک مضبوط کنٹرول میں ہے۔
یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب United States اور Israel کی جانب سے ایران پر فوجی حملوں کو تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ ان حملوں میں متعدد فوجی تنصیبات، دفاعی نظام اور اعلیٰ حکام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی ریاستی ادارے اور سکیورٹی ڈھانچہ بدستور فعال ہیں اور عوامی نظم و نسق برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں طاقت کا بڑا مرکز Islamic Revolutionary Guard Corps ہے جو ملک کے سیاسی اور عسکری نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ادھر ایران میں سپریم لیڈر Ali Khamenei کی ہلاکت کے بعد قیادت میں تبدیلی بھی سامنے آئی۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے طور پر Mojtaba Khamenei کو منتخب کیا گیا ہے، جس کے بعد حکومتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومتی نظام مکمل طور پر کمزور نہیں ہوا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی حکومت کی فوری تبدیلی کے لیے صرف فضائی حملے کافی نہیں ہوتے بلکہ زمینی سطح پر بڑے سیاسی اور سماجی عوامل بھی ضروری ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر بھی جنگ کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔ ایک طرف بعض حلقے جنگ کو محدود رکھنے یا جلد ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران میں سیاسی تبدیلی لانا مقصد ہو تو اس کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اور داخلی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ انٹیلی جنس اندازوں میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت فی الحال مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔



