
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی تعاون کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک اس تنازع میں اس سطح پر ایک ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں جو ماضی میں کم ہی دیکھی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق United States اور Israel کے فوجی کمانڈرز اور انٹیلی جنس ٹیمیں براہِ راست رابطے میں رہ کر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان روزانہ ہزاروں رابطے اور معلومات کا تبادلہ ہو رہا ہے تاکہ کارروائیوں کو بہتر انداز میں ہم آہنگ کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل نے ایران کے مرکزی اور حساس علاقوں کو نشانہ بنایا جبکہ امریکا نے جنوبی علاقوں اور سمندری آپریشنز پر زیادہ توجہ دی۔ اس دوران دونوں ممالک نے فضائی کارروائیوں، انٹیلی جنس معلومات اور جدید ٹیکنالوجی کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت استعمال کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے ایران کو مستقل طور پر کمزور دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا کے اہداف نسبتاً محدود بتائے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں اتحادیوں کے درمیان حکمت عملی کے بعض پہلوؤں پر اختلاف بھی موجود ہے۔
ادھر جنگ کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا یہ قریبی فوجی تعاون خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو کیا یہ اتحاد اسی شدت کے ساتھ برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔



