
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
عراق کے فضائی علاقے میں امریکی فضائیہ کے دو طیاروں کے درمیان پیش آنے والے درمیانی فضائی تصادم کے بعد ایک طیارہ شدید نقصان کے باوجود اسرائیل میں بحفاظت اترنے میں کامیاب ہو گیا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ Boeing KC-135 Stratotanker تصادم کے واقعے میں بری طرح متاثر ہوا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے پچھلے حصے یعنی عمودی دم (vertical stabilizer) کا بڑا حصہ ٹوٹ چکا تھا۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ طیارہ بعد ازاں اسرائیل کے شہر تل ابیب کے قریب واقع Ben Gurion Airport پر ہنگامی لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ واقعے کے بعد طیارے کو رن وے سے ہٹا کر تکنیکی جانچ کے لیے منتقل کر دیا گیا۔

دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عراق کی فضاؤں میں پیش آیا جہاں امریکی فضائیہ کے طیارے خطے میں جاری فوجی آپریشنز کے سلسلے میں پرواز کر رہے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تصادم کسی دشمن حملے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر فضائی مشق یا آپریشن کے دوران پیش آنے والا حادثہ تھا۔
ماہرین کے مطابق KC-135 جیسے ری فیولنگ طیارے جنگی کارروائیوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہی طیارے فضا میں جنگی جہازوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں جس سے طیارے طویل فاصلے تک بغیر لینڈنگ کے کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس حادثے میں طیارے کو شدید نقصان پہنچا، تاہم عملے کا طیارے کو بحفاظت اتار لینا ایک بڑی پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر ہے۔ امریکی فوجی حکام کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ تصادم کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اس واقعے نے امریکی فضائی آپریشنز کی پیچیدگی اور خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔



