ایرانتازہ ترین

ایک گھنٹے میں تین میزائل حملے، ایران کی کارروائیاں تیز، امریکی فوجیوں کو بھی دھمکی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کے خلاف اپنے حملوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایک ہی گھنٹے کے اندر تین میزائل لہریں داغی گئیں جبکہ امریکی فوجیوں کو سخت دھمکی بھی دی گئی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے Operation True Promise 4 کے تحت کیے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں اسرائیل کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا جن میں **Tel Aviv، Eilat اور Jerusalem کے علاقے شامل ہیں۔

ایرانی بیان کے مطابق میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرون کارروائیاں بھی کی گئیں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں بحرین کے دارالحکومت Manama، عراق کے شہر Erbil اور اردن کے Muwaffaq Salti Air Base کے قریب فوجی تنصیبات شامل بتائی جا رہی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں خرم شہر، عماد اور خیبر شکن جیسے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے جن کے وارہیڈ ایک سے دو ٹن تک وزن رکھتے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے بھی میزائل حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی اسرائیل اور جنوبی علاقوں میں سائرن بجائے گئے جبکہ متعدد میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک لیا گیا۔

زخمیوں کی تعداد میں اضافہ

اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریباً تین ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ حکام کے مطابق درجنوں افراد اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

امریکی فوجیوں کو براہِ راست دھمکی

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی “جہاں بھی ہوں گے انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے”، یہاں تک کہ اگر وہ ہوٹلوں یا پناہ گاہوں میں بھی موجود ہوں۔ ایران نے عرب ممالک کو بھی خبردار کیا کہ وہ امریکی فوجیوں کو اپنے علاقوں میں پناہ دینے سے گریز کریں۔

امریکی طیارہ حادثہ بھی زیر بحث

اسی دوران ایران کے اتحادی گروہوں نے دعویٰ کیا کہ عراق میں ایک امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا گیا جس میں چھ اہلکار سوار تھے۔ تاہم امریکی فوج کے مطابق یہ طیارہ مغربی عراق میں حادثے کا شکار ہوا اور اس واقعے کی وجہ دشمن کی کارروائی نہیں تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو جنگ مزید ممالک تک پھیلنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button