
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا نے عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والی بے یقینی کو کم کرنے کے لیے روسی تیل کی خریداری پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق اس خصوصی اجازت نامے کے تحت ممالک کو 30 دن تک ایسے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دی گئی ہے جو پہلے ہی جہازوں میں لوڈ ہو کر سمندر میں موجود ہیں۔ اس رعایت کا اطلاق 12 مارچ تک لوڈ کیے گئے تیل پر ہوگا اور یہ اجازت 11 اپریل تک مؤثر رہے گی۔
حکام کے مطابق اس وقت دنیا بھر کے مختلف سمندری راستوں میں تقریباً 124 ملین بیرل روسی تیل بحری جہازوں میں موجود ہے، جو عالمی سپلائی کے چند دنوں کے برابر ہے۔ توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تیل منڈی تک نہ پہنچتا تو عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔
یہ فیصلہ امریکی صدر Donald Trump کی حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔ اس سے قبل امریکا نے اپنے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر سے تقریباً 172 ملین بیرل تیل جاری کیا تھا جبکہ International Energy Agency کے تحت کئی ممالک نے مجموعی طور پر 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عالمی توانائی بحران کا خدشہ
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث خاص طور پر Strait of Hormuz کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں کیونکہ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent کا کہنا ہے کہ یہ رعایت محدود اور عارضی ہے اور اس کا مقصد صرف توانائی کی منڈی میں پیدا ہونے والے فوری دباؤ کو کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے روس کی آمدن میں نمایاں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ یہ صرف عالمی سپلائی کو متوازن رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اتحادیوں میں تشویش
تاہم اس فیصلے نے بعض مغربی اتحادیوں میں تشویش بھی پیدا کر دی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر Ursula von der Leyen نے کہا ہے کہ روس پر پابندیاں نرم کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے کیونکہ اس سے یوکرین جنگ کے حوالے سے مغربی دباؤ کمزور ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی توانائی منڈی کس حد تک جغرافیائی سیاسی تنازعات سے متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔



