ایرانتازہ ترین

ایران میں قدس ریلی : تمام بڑے قائدین ریلی میں شریک ۔ امریکا اسرائیل کی ریلی پر بمباری

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران کے مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں بڑے عوامی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ یومِ القدس کے موقع پر تہران سمیت کئی شہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور فلسطین کے حق میں اور اسرائیل و امریکا کے خلاف نعرے لگائے۔

ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا کہ حالیہ حملوں اور شدید کشیدگی کے باوجود ایرانی عوام نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر اپنے عزم اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایرانی عوام دباؤ کے باوجود اپنی حکومت اور ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تہران اور دیگر شہروں میں لاکھوں افراد کی شرکت سے واضح ہو گیا ہے کہ ایران پر بیرونی دباؤ ایرانی عوام کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق “دشمنوں کو بالآخر ایرانی قوم کی طاقت تسلیم کرنا پڑے گی۔”

اسی دوران ایران کے سینئر سیاسی رہنما Ali Larijani نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑا ہے اور ملک کسی بھی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

حکومت کے استحکام پر بحث

دوسری جانب بعض اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شدید فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کی حکومت فوری طور پر گرنے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ان کے مطابق ایران کی قیادت بدستور کام کر رہی ہے جبکہ سکیورٹی ادارے شہروں میں سخت کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایرانی سکیورٹی فورسز نے بڑے شہروں میں سخت نگرانی قائم کر رکھی ہے تاکہ کسی ممکنہ احتجاج یا بدامنی کو روکا جا سکے۔

جنگ کے بعد دباؤ جاری رہنے کا امکان

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ جنگ کے خاتمے کے بعد براہِ راست فوجی کارروائیاں کم ہو سکتی ہیں، لیکن امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دباؤ مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان کم ہے۔

مبصرین کے مطابق مستقبل میں ایران پر اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور خفیہ کارروائیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے تاکہ تہران کی علاقائی پالیسیوں کو محدود کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران کے اندرونی سیاسی ڈھانچے کو کمزور کرنا آسان نہیں ہوگا، اور خطے میں جاری کشیدگی مستقبل میں بھی عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button