تازہ ترینفلسطین

غزہ کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی امدادی فلوٹیلا کا اعلان، مارچ میں ایک ہزار سے زائد کارکن روانہ ہوں گے

غزہ کے لیے امداد لے جانے والے بین الاقوامی کارکنوں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ مارچ میں ایک نئی اور پہلے سے کہیں بڑی بحری فلوٹیلا غزہ کی جانب روانہ کی جائے گی۔ اس مہم کو گلوبل صمود فلوٹیلا کا نام دیا گیا ہے، جس میں 100 سے زائد کشتیاں اور تقریباً ایک ہزار کارکن شامل ہوں گے۔ منتظمین کے مطابق یہ غزہ کے لیے اب تک کی سب سے بڑی ’’منظم انسانی امدادی مداخلت‘‘ ہو گی۔

فلوٹیلا کے منتظمین نے بتایا کہ اس مہم میں ڈاکٹرز، طبی عملہ، انسانی حقوق کے کارکن اور جنگی جرائم کی تحقیقات سے وابستہ ماہرین شریک ہوں گے۔ مقصد غزہ پر عائد بحری ناکہ بندی کو توڑنا اور وہاں جاری انسانی بحران کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔

یہ اعلان جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں سابق رہنما نیلسن منڈیلا کی فاؤنڈیشن میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا نے کہا کہ یہ تحریک اُن تمام لوگوں کے لیے ہے جو انصاف، انسانی وقار اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بحری فلوٹیلا کے ساتھ ساتھ قریبی عرب ممالک سے ایک زمینی امدادی قافلہ بھی روانہ کیا جائے گا، جس میں ہزاروں افراد کی شمولیت متوقع ہے۔

Members of the group of ships of the Global Sumud Flotilla to Gaza are seen moored at the small island of Koufonisi, south of the island of Crete, on September 26, 2025. After a reported attack by drones early on September 25, 2025 morning, Athens has said it will guarantee safe sailing in its waters. The Global Sumud Flotilla, carrying activists including Swedish environmentalist Greta Thunberg, blamed Israel for more than a dozen explosions heard around its vessels off Greece late on September 24, 2025. (Photo by Eleftherios ELIS / AFP)

گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیل کی فوج نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی تقریباً 40 کشتیوں کو سمندر میں روک لیا تھا اور 450 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل تھیں۔ متعدد کارکنوں نے اسرائیلی حراست کے دوران جسمانی اور ذہنی بدسلوکی کے الزامات عائد کیے تھے۔

اسرائیلی حکام ایسی فلوٹیلا مہمات کو ماضی میں ’’تشہیری اقدامات‘‘ قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ غزہ پر عائد ’’غیر قانونی ناکہ بندی‘‘ کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے تحت پرامن انسانی اقدام کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کشتیوں کو ضبط کرنا بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور امدادی اداروں کے مطابق اسرائیلی پابندیوں کے باعث غزہ میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اگرچہ اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد کچھ امداد غزہ پہنچی ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ مقدار فوری انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ اسرائیل ایک بار پھر ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرے گا، مگر ان کے مطابق بین الاقوامی قانون ان کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سفر غزہ کے عوام کی حالتِ زار کو دنیا کے سامنے لانے اور انسانی دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button