
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اسرائیل نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس بیلسٹک میزائل روکنے والے انٹرسیپٹر میزائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے واشنگٹن کو بتایا ہے کہ مسلسل حملوں کے باعث اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے دفاعی میزائلوں کا ذخیرہ نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے رواں ہفتے امریکہ کو آگاہ کیا کہ اس کے لانگ رینج میزائل ڈیفنس سسٹمز شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل پہلے ہی گزشتہ برس ایران کے ساتھ کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد محدود دفاعی ذخائر کے ساتھ اس جنگ میں داخل ہوا تھا، جس کے باعث اب اس کے دفاعی نظام پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے بعض میزائلوں میں کلسٹر وار ہیڈز شامل کرنا شروع کر دیے ہیں، جو ایک ہی میزائل سے متعدد چھوٹے دھماکہ خیز ہتھیار چھوڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے ہتھیار میزائل دفاعی نظام کے لیے زیادہ مشکل ہدف ثابت ہوتے ہیں اور دفاعی وسائل پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق واشنگٹن کو اسرائیل کے محدود انٹرسیپٹر ذخائر کے بارے میں کئی ماہ سے علم تھا اور امریکی حکام اس صورتحال کے لیے پہلے سے تیار تھے۔ تاہم امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کو اس وقت اپنے میزائل دفاعی ذخائر میں ایسی کسی کمی کا سامنا نہیں۔
یاد رہے کہ خطے میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے۔ اس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی مفادات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
ان حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے جبکہ کئی مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں جاری اس جنگ کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور فضائی سفر پر بھی پڑنے لگے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ مزید طویل ہوتی ہے تو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو اپنے میزائل دفاعی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی وسائل اور اسلحہ درکار ہو سکتا ہے، جو اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔



