ایرانتازہ ترین

روس نے خفیہ طور پر ایران کو ڈھائی ارب ڈالر نقد فراہم کیے

پابندیوں سے بچنے کے لیے نوٹوں سے بھرے ٹرین کارگو، ایران کی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش

لندن/ماسکو/تہران — ایک چونکا دینے والے انکشاف میں برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے امریکا کی سخت پابندیوں کے بعد ایران کی حکومت کو سہارا دینے کے لیے خفیہ طور پر اربوں ڈالر نقد رقم ایران منتقل کی۔ رپورٹ کے مطابق روسی ریاستی بینک کے ذریعے تقریباً 2.5 ارب ڈالر مالیت کی کرنسی ایران کے مرکزی بینک تک پہنچائی گئی۔

ذرائع کے مطابق یہ رقم 2018 میں اس وقت منتقل کی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کی تھیں۔ صرف چار ماہ کے دوران تقریباً پانچ ٹن وزنی نوٹ 34 بڑی کھیپوں کی صورت میں ماسکو سے تہران بھیجے گئے۔ ہر کھیپ کی مالیت 57 سے 115 ملین ڈالر کے درمیان بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نقد رقوم روس کے شہر ماسکو میں واقع پروم سویاز بینک سے ایران کے مرکزی بینک تک پہنچیں، ممکنہ طور پر ٹرین کے ذریعے بحیرہ کیسپین تک، پھر بحری راستے سے ایران کی بندرگاہ امیرآباد اور وہاں سے دوبارہ ٹرین کے ذریعے تہران منتقل کی گئیں۔ ماہرین کے مطابق زیادہ تر رقم یورپی کرنسی کے بڑے نوٹوں میں تھی، تاکہ وزن کم اور مالیت زیادہ رکھی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خفیہ مالی مدد روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ماسکو ایران کو ایک اہم اتحادی سمجھتا ہے اور خطے میں اس کی حکومت کے خاتمے کو اپنے لیے بڑا جغرافیائی نقصان تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس نے پابندیوں کے باوجود غیر روایتی طریقوں سے ایران کو معاشی سہارا دیا۔

امریکی وزارت خارجہ کی سابق مشیر آشا کیسل بیری ہرنینڈز کے مطابق، نقد رقوم کی منتقلی اس لیے کی گئی تاکہ روس کی مدد عالمی سطح پر منظرِ عام پر نہ آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ روس ایران کی حکومت کی بقا میں کس حد تک دلچسپی رکھتا ہے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ رقوم ایران کی فوجی ضروریات، میزائل نظام، یا پاسدارانِ انقلاب سے منسلک سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو سکتی تھیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک عالمی بینکاری نظام سے بڑی حد تک باہر ہو چکے تھے۔

رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں، جب ایران نے روس کو یوکرین جنگ کے لیے ڈرون اور میزائل فراہم کیے، اس قسم کی مالی منتقلی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق ایران میں حالیہ عوامی احتجاج اور حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد روس ایک بار پھر تہران کو پسِ پردہ سہارا دے رہا ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ روس نے ایران کو کھلے عام فوجی مدد فراہم نہیں کی، لیکن نقد رقم جیسی خفیہ امداد دراصل وہی کردار ادا کر رہی ہے جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button