
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے دوران کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں “ہر صورت تلاش کر کے نشانہ بنائیں گے”۔ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے اس بیان کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے مغربی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی تنصیبات اور میزائل لانچنگ مقامات کو نشانہ بنانا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی یا معاہدے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ شرائط امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اس وقت تک کسی معاہدے پر راضی نہیں ہوگا جب تک اسے بہتر شرائط حاصل نہ ہوں۔
اس دوران ایران کے اندر سکیورٹی صورتحال بھی سخت ہو گئی ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 20 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد سے تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب عراق نے بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ہونے والے ڈرون حملے ایک حساس جیل کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ اس جیل میں داعش کے سینکڑوں مشتبہ جنگجو قید ہیں جنہیں حال ہی میں شام سے منتقل کیا گیا تھا۔
عراق کے محکمہ انصاف کے ترجمان کے مطابق حالیہ حملوں کے کچھ دھماکے اس جیل کے قریب ہوئے ہیں جس سے سکیورٹی خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
دریں اثنا یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران جنگ کے باعث امریکہ کی توجہ یوکرین جنگ سے ہٹ جائے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مدد کے لیے اپنے ڈرون ٹیکنالوجی کے تجربات بھی شیئر کرنے کو تیار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس جنگ کے اثرات اب عالمی سیاست اور سلامتی پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سکیورٹی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔



