
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارک آئل جزیرے پر مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے اپنے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے جنگی بحری جہاز تعینات کریں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ۔اسرائیل جنگ اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں نے خارک جزیرے کے کئی حصوں کو “بری طرح تباہ” کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اس اہم تیل تنصیب کو دوبارہ بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
خارک جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کے راستے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس سمندری راستے کی حفاظت کے لیے آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے جنگی جہاز خلیج میں بھیجیں تاکہ جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات پر مزید حملے کیے گئے تو وہ سخت ردعمل دے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اپنی توانائی تنصیبات کے خلاف کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گا۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ کئی میزائلوں اور ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور اگر یہ راستہ بند رہتا ہے تو عالمی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
اس دوران خلیج کے کئی علاقوں میں سکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض اور مشرقی علاقوں کی طرف آنے والے 10 ڈرونز کو مار گرایا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں ایک ڈرون حملے کے بعد آئل ٹرمینل پر عارضی طور پر سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف عالمی تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ یہ بحران عالمی معیشت اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
ادھر ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔



