
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اسی صورتحال کے تناظر میں آسٹریلیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عالمی منڈی کو مائع قدرتی گیس (LNG) کی قابلِ اعتماد فراہمی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔
آسٹریلوی حکومت کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعے نے توانائی کی عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے بعد کئی ممالک متبادل توانائی سپلائرز کی تلاش میں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے پاس گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور اگر بین الاقوامی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے تو ملک عالمی توانائی منڈی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ نے خطے میں توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس تنازعے کے باعث دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل قطر کو بھی اپنی اہم برآمدی تنصیبات کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنا پڑی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے باعث بحری تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر آسٹریلیا نے خود کو ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد توانائی سپلائر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
آسٹریلوی حکام نے اپنے تجارتی شراکت داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے گیس سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھائیں تاکہ مستقبل میں عالمی توانائی کی طلب کو پورا کرنے میں مدد مل سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ سرمایہ کاری بڑھتی ہے تو آسٹریلیا آنے والے برسوں میں عالمی ایل این جی مارکیٹ میں مزید مضبوط پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔



