تازہ ترینسائنس ٹیکنالوجی

شمالی کوریا کا بڑا راکٹ تجربہ، کم جونگ اُن نے خود نگرانی کی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ہفتے کے روز طاقتور ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹم کے تجرباتی فائرنگ کا معائنہ کیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس تجربے میں 600 ملی میٹر کیلیبر کے درجن بھر راکٹ لانچ کیے گئے، جو شمالی کوریا کی جدید جنگی صلاحیتوں کے مظاہرے کا حصہ تھے۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس فوجی مشق کا مقصد دشمن ممالک کو اس ہتھیار کی تباہ کن صلاحیت سے آگاہ کرنا تھا۔ کم جونگ اُن نے کہا کہ اس تجربے کے ذریعے ان ممالک کو واضح پیغام دیا گیا ہے جو 420 کلومیٹر کے دائرۂ کار میں آتے ہیں کہ شمالی کوریا کے پاس طاقتور ہتھیار موجود ہیں۔

جاری کردہ تصاویر میں کم جونگ اُن اپنی بیٹی کم جو اے کے ساتھ اس تجربے کا مشاہدہ کرتے نظر آئے۔ مبصرین کے مطابق ان کی بیٹی کو اکثر ایسے فوجی اور سرکاری پروگراموں میں ساتھ لایا جاتا ہے، جسے بعض ماہرین مستقبل کی قیادت کے اشارے کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

شمالی کوریا کے مطابق راکٹوں نے تقریباً 364 کلومیٹر دور سمندر میں موجود ہدف کو مکمل درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے 10 سے زائد بیلسٹک میزائل اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف داغے، جو تقریباً 350 کلومیٹر تک پرواز کرتے ہوئے گرے۔

یہ تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور جنوبی کوریا نے اپنے سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کی ہیں۔ پیونگ یانگ نے ان مشقوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

دوسری طرف امریکہ اور جنوبی کوریا کا مؤقف ہے کہ یہ فوجی مشقیں صرف دفاعی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد شمالی کوریا کی ممکنہ فوجی سرگرمیوں کے خلاف تیاری کو بہتر بنانا ہے۔

ماہرین کے مطابق شمالی کوریا گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قسم کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجربات کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو دور تک پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر سکے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2006 سے شمالی کوریا پر متعدد پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں، تاہم پیونگ یانگ نے ان پابندیوں کے باوجود اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھا ہوا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button