
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکہ اور چین کے اعلیٰ معاشی حکام نے پیرس میں ایک اہم ملاقات کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی اختلافات کو کم کرنا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی متوقع ملاقات کے لیے ماحول سازگار بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (OECD) کے ہیڈکوارٹر میں ہو رہے ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ جبکہ چینی وفد کی سربراہی نائب وزیر اعظم ہی لی فینگ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان مذاکرات میں کئی اہم معاشی معاملات زیرِ بحث آئیں گے جن میں امریکی ٹیرف، نایاب معدنیات (ریئر ارتھ) کی فراہمی، ہائی ٹیک برآمدات پر پابندیاں اور چین کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری شامل ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیرس مذاکرات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔ اگرچہ فوری طور پر کسی بڑے معاہدے کی توقع کم ہے، تاہم یہ بات چیت آئندہ مہینے بیجنگ میں متوقع ٹرمپ۔شی سربراہی ملاقات کی تیاری کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے ایک عارضی تجارتی سمجھوتہ کیا تھا، جس کے تحت امریکہ نے چینی مصنوعات پر بعض ٹیرف کم کیے جبکہ چین نے امریکی زرعی اجناس، خاص طور پر سویا بین کی خریداری بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
ادھر امریکی حکام نے چین کے خلاف نئی تجارتی تحقیقات شروع کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں مزید ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ چین نے ان تحقیقات کو یکطرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر جوابی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور چین کے درمیان معاشی تعاون میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے عالمی معیشت میں اعتماد بحال ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ عالمی کشیدگی اور تجارتی اختلافات کے باعث مذاکرات کا راستہ اب بھی پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔



