
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اتحادی ممالک سے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کے بعد عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ جنوبی کوریا نے اس معاملے پر غور شروع کر دیا ہے جبکہ جاپان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف امریکی درخواست پر اس اہم سمندری راستے میں اپنے جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔
جنوبی کوریا کے مقامی میڈیا کے مطابق سیئول حکومت آبنائے ہرمز میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کے امکان کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ مشاورت بھی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ خطے کی سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی فیصلہ احتیاط سے کیا جائے گا۔
دوسری جانب جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹوکیو اس معاملے میں خودمختار فیصلہ کرے گا اور صرف امریکی صدر کی درخواست کی بنیاد پر بحری جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک بیان میں چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیج کر تیل بردار جہازوں کی حفاظت میں حصہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم سمندری راستے سے دنیا کے کئی ممالک کو تیل کی سپلائی ملتی ہے، اس لیے اسے محفوظ رکھنا عالمی ذمہ داری ہے۔
اسی دوران یورپی ممالک بھی اس مسئلے پر غور کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فرانس آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ سمندری راستوں کی حفاظت کے مختلف آپشنز پر بات چیت کر رہا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق لندن ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی تلاش کے لیے ڈرونز اور ایرانی ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے انٹرسیپٹر طیارے بھی تعینات کر سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ جلد ہی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے لیے بحری اسکواڈ کے ذریعے حفاظت فراہم کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے سمندری راستے کو بند کرنے کی کوشش جاری رکھی تو اس کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر ایران نے امریکی بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود امریکی کمپنیوں اور مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔



