اسرائیلامریکاتازہ ترین

ایران جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا مضبوط اتحاد نمایاں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مختلف حلقوں میں تبصرے اور آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ایک اسرائیلی مبصر نے حالیہ تحریر میں کہا ہے کہ موجودہ جنگ نے ایک بار پھر اسرائیل اور امریکہ کے درمیان قریبی اتحاد اور دفاعی تعاون کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی بنیادی پالیسی یہی رہی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے خطرے کو برداشت نہیں کرے گا جس سے ملک کے وجود یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔

مبصر نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوبی اسرائیل کے شہر کریات گات میں ہفتہ کے روز عبادت کے دوران اچانک فضائی حملے کا سائرن بج اٹھا، جس کے بعد واضح ہو گیا کہ خطہ ایک بڑے فوجی تصادم کی طرف بڑھ چکا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی معاشرے میں تاریخی اور مذہبی حوالوں کے ذریعے یہ تصور مضبوط ہے کہ ملک کو اپنی دفاعی صلاحیت ہر وقت برقرار رکھنی چاہیے۔

تحریر میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں اسی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ مبصر کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کئی دہائیوں سے دفاعی، انٹیلی جنس اور سفارتی سطح پر ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں اور موجودہ بحران میں بھی دونوں ممالک کا تعاون واضح طور پر سامنے آ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ میں، اسرائیل کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم امریکہ اکثر اس کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ مبصر کے مطابق یہی شراکت داری خطے میں طاقت کے توازن اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

تحریر کے اختتام پر مصنف نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جاری جنگ جلد ختم ہو اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام واپس آئے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران نے نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے کو ایک نئی غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button