
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ہزاروں اہلکار ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق آپریشن “روئرنگ لائن” اور “ایپک فیوری” کے آغاز سے اب تک پاسدارانِ انقلاب کے 6 ہزار سے زائد ارکان ہلاک جبکہ تقریباً 15 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق ایران کے مختلف علاقوں میں فوجی تنصیبات، میزائل لانچرز، اسلحہ گوداموں اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک سینئر فوجی اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی قیادت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور کئی اعلیٰ عہدیدار سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کے شواہد بھی حذف کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے خلاف 10 ہزار سے زائد ہتھیار اور بم استعمال کیے جا چکے ہیں۔ ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کے میزائل پروگرام، فوجی صنعت اور داخلی سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا بتایا جا رہا ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق حالیہ مرحلے میں حملوں کا دائرہ صرف بڑے فوجی مراکز تک محدود نہیں رہا بلکہ ایران کے مختلف صوبوں میں موجود بسیج فورس کے کمانڈ سینٹرز اور سکیورٹی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں بعض علاقوں میں شدید افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف بڑے دعوے کرتے ہیں، اس لیے درست اعداد و شمار کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو نہ صرف ایران کی فوجی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں سلامتی اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس تنازع کو حالیہ برسوں کے سب سے بڑے فوجی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔



