امریکاتازہ ترین

تین ہفتوں میں 12 ارب ڈالر دھواں بن گئے، ٹرمپ کے معاشی مشیر کا انکشاف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

کیون ہیسٹ کے مطابق امریکی اسلحہ خانے بھرے ہوئے ہیں، فی الحال کانگریس سے اضافی فنڈز نہیں مانگیں گے

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ معاشی مشیر نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے تیسرے ہفتے میں جنگی اخراجات کا پہلا باضابطہ تخمینہ پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس تنازعے پر اب تک کم از کم 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسٹ نے اتوار کو سی بی ایس نیوز کے پروگرام "فیس دی نیشن” میں گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ جنگ کی کل لاگت میں مسلسل اضافہ ہوگا، تاہم انہوں نے کانگریس سے اضافی فنڈز کی فوری ضرورت کو مسترد کر دیا۔

کیون ہیسٹ نے کہا، "مجھے دی گئی تازہ ترین بریفنگ کے مطابق یہ رقم 12 ارب ڈالر ہے، اور یہ اعداد و شمار درست ہیں۔” انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ امریکہ وہ ہتھیار استعمال کر رہا ہے جو پہلے سے موجود ہیں، اس لیے کسی ہنگامی سپلیمنٹری فنڈنگ کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کو اب تین ہفتے مکمل ہو چکے ہیں۔

اگرچہ ہیسٹ نے واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کتنے دنوں کے اخراجات کا احاطہ کرتی ہے، مگر ان کا اشارہ اب تک کی کل لاگت کی طرف تھا۔ گزشتہ ہفتے قانون سازوں کو دی گئی بریفنگ میں یہ رقم تقریباً 11 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔ دوسری جانب واشنگٹن میں یہ افواہیں بھی گرم ہیں کہ انتظامیہ کانگریس سے 50 ارب ڈالر کا جنگی پیکیج مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس سے قبل جنگ کے ٹائم لائن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "میں جب چاہوں گا، یہ ختم ہو جائے گی۔” انہوں نے اسلحہ خانے کی کمی کی تشویش کو بھی مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کے پاس ہتھیاروں کی "عملی طور پر لامحدود سپلائی” ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیانات ملکی گولہ بارود کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو چھپانے کی کوشش ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ اس وقت آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کے نتائج سے نمٹنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی سطح پر بحری جہازوں کے ذریعے تیل کی سپلائی کا ایک اہم ذریعہ ہے، جہاں سے دنیا کے کل بحری تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ایران کے اقدامات کی وجہ سے جہاز رانی میں سیکیورٹی خدشات بڑھے ہیں جس سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کیون ہیسٹ نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہیں اور انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی اور ایران خطے میں تباہ کن سرگرمیاں روکے گا، تیل اور صنعتی پیداوار میں تیزی آئے گی اور عالمی معیشت کو ایک بڑا مثبت جھٹکا لگے گا۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی دہرایا کہ جنگی کوششیں "شیڈول سے آگے” ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام پر ناکام مذاکرات کے بعد اس کی جنگی صلاحیتوں کو کم کرنے کے لیے مسلسل فضائی حملے کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button