ٹرمپ ایران کے خارگ آئل ٹرمینل پر قبضے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے اہم تیل ذخیرہ کرنے والے مرکز خارگ آئی لینڈ پر قبضہ کرنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں، اگر تہران نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ برقرار رکھی۔ یہ دعویٰ امریکی خبر رساں ادارے Axios نے امریکی حکام کے حوالے سے کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ایسا کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو اس کے لیے امریکی فوجی دستوں کی زمینی تعیناتی بھی درکار ہو سکتی ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ خارگ آئی لینڈ ایران کی تیل برآمدات کے لیے نہایت اہم مرکز سمجھا جاتا ہے اور ملک کے زیادہ تر خام تیل کی ترسیل اسی بندرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق واشنگٹن اس معاملے پر سفارتی سطح پر بھی سرگرم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مختلف ممالک پر مشتمل ایک اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کے قیام کا اعلان اسی ہفتے کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر فوری طور پر پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق خطے میں ڈرون حملوں اور راکٹ فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں سفارتی کوششوں کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔



