ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز بحران: عالمی توانائی منڈی کی بحالی کی کنجی ایران کے ہاتھ میں،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کو خطرناک حد تک متاثر کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں عالمی توانائی مارکیٹ کی بحالی بڑی حد تک ایران کے فیصلوں پر منحصر ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں سعودی آرامکو نے اپنے بین الاقوامی خریداروں کو ایک خط میں بتایا کہ اسے ابھی واضح نہیں کہ اپریل میں تیل کی ترسیل کس بندرگاہ سے کی جائے گی۔ کمپنی نے اشارہ دیا کہ کچھ کارگو بحیرۂ احمر کے راستے بھیجے جا سکتے ہیں جبکہ بعض اب بھی خلیج کے راستے روانہ کیے جا سکتے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے عالمی خریداروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

ایک سعودی خریدار نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ “اب شاید ہمیں ایران سے ہی پوچھنا پڑے گا کہ جنگ کب ختم ہو گی تاکہ تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے۔”

ماہرین کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ یہ راستہ عالمی توانائی تجارت کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، تاہم توانائی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی رک بھی جائے تو بھی تیل اور گیس کی سپلائی کو معمول پر آنے میں ہفتوں یا حتیٰ کہ مہینوں لگ سکتے ہیں۔

ادھر خلیجی ممالک کے توانائی حکام کا کہنا ہے کہ صرف امریکی بحری جہازوں کی سکیورٹی فراہم کرنے سے جہاز رانی مکمل طور پر بحال نہیں ہو گی۔ ان کے مطابق اس وقت تک بحری ٹریفک معمول پر نہیں آئے گی جب تک ایران کی جانب سے بحری راستوں کی مکمل سلامتی کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی۔

جنگ کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل میں کئی ریفائنریاں عارضی طور پر بند ہو چکی ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

توانائی ماہرین کے اندازوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی پیداوار میں 70 لاکھ سے ایک کروڑ بیرل یومیہ تک کمی آ چکی ہے، جو عالمی طلب کا تقریباً 7 سے 10 فیصد بنتی ہے۔ قطر نے بھی عارضی طور پر اپنی مائع قدرتی گیس کی پیداوار بند کر دی ہے جس سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد LNG سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ عالمی ادارے ہنگامی تیل ذخائر جاری کرنے جیسے اقدامات کر رہے ہیں، تاہم خلیج میں جاری کشیدگی ختم ہوئے بغیر توانائی منڈیوں میں مکمل استحکام ممکن نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ بحران نے عالمی توانائی نظام کی کمزوریوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جہاں ایک اہم سمندری راستہ بند ہونے سے پوری دنیا کی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button