
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران قطر اور سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں استحکام کے لیے عرب ممالک کے درمیان قریبی تعاون اور رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے مطابق قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور اس کے علاقائی و عالمی امن پر ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔
قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے فوری طور پر کشیدگی کم کی جائے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جائے۔
گفتگو کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں عرب ممالک کے درمیان مشترکہ رابطوں اور تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے بھی مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری کشیدگی، سفارتی کوششوں اور بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کے اقدامات پر بات چیت کی۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کے بعد سے خلیجی ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے، جنہیں ایران اپنی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا جواب قرار دیتا ہے۔ اگرچہ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ہیں، تاہم بعض حملوں کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
خلیجی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتے ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باعث پورے خطے میں سفارتی سرگرمیاں اور سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔



