ایرانتازہ ترین

ایران–امریکا کشیدگی پر علاقائی رابطے تیز، امریکا متبادل سیاسی منظرناموں پر بھی غور میں

بیجنگ — ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ترکی اور قطر کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جس میں ایران–امریکا کشیدگی، علاقائی سلامتی اور ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے سفارتکاری اور رابطوں کے تسلسل کو ضروری قرار دیا۔

ادھر اسرائیلی اخبار معاریو کی رپورٹ، عرب اخبار دی نیشنل کے حوالے سے، یہ دعویٰ کرتی ہے کہ واشنگٹن ایک طرف ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب متبادل سیاسی منظرناموں پر بھی غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کو دھچکا پہنچتا ہے یا تبدیلی آتی ہے تو امریکا ممکنہ عبوری قیادت/نظام کے آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر کے کردار کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، جو امریکا میں موجود بااثر ایرانی نژاد شخصیات سے رابطوں میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی اپوزیشن کے کچھ حلقے اور کاروباری رہنما ممکنہ کردار کے لیے زیرِ غور ہیں، جبکہ سابق شاہِ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی کا نام بھی بطور ممکنہ عبوری رہنما زیرِ بحث آیا ہے، تاہم ان کے براہِ راست کردار سے متعلق وضاحت نہیں کی گئی۔

اسی دوران آذربائیجان میں ایران کے وزیرِ دفاع نے صدر اور اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ایرانی حکام کے مطابق آذربائیجان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کے خلاف موساد یا کسی بھی بیرونی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے موساد سے منسلک بعض افراد کا ڈیٹا بھی متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

علاوہ ازیں چین نے ایک بار پھر ایران کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران پر کسی بھی قسم کے حملے کی مخالفت کرتا ہے اور بیجنگ ایران کے ساتھ سیاسی و سفارتی تعاون جاری رکھے گا۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ سفارتکاری اس کی پہلی ترجیح ہے، تاہم امریکی مطالبات میں ایران کی جوہری صلاحیتوں کا خاتمہ، بیلسٹک میزائل پروگرام کی حد بندی اور خطے میں سرگرم پراکسی گروپس پر بات چیت شامل ہے۔ دوسری طرف خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی اقدام سے پورا خطہ ایک نئے تنازع کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق علاقائی رابطوں اور عالمی طاقتوں کے بیانات سے واضح ہے کہ معاملہ صرف عمان میں جاری مذاکرات تک محدود نہیں رہا، بلکہ مختلف دارالحکومتوں میں بیک وقت سفارتی اور سیاسی تیاریوں پر کام ہو رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button