امریکاتازہ ترین

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی واپسی پر عالمی میڈیا میں بحث، خطے میں طاقت کے توازن پر سوالات

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln کی واپسی سے متعلق عالمی میڈیا میں مختلف تبصرے اور تجزیے سامنے آ رہے ہیں، جن میں خطے کی بدلتی ہوئی عسکری صورتحال اور جدید جنگی حکمت عملیوں پر بحث کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ واقعات نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا روایتی بحری طاقت، خصوصاً طیارہ بردار بحری جہاز، جدید دور کی جنگی حکمت عملیوں کے مقابلے میں پہلے جیسی برتری برقرار رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بعض عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ جدید میزائل ٹیکنالوجی، ڈرونز اور غیر روایتی بحری حکمت عملیوں کے باعث بڑے بحری جہاز پہلے کی نسبت زیادہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے جہاز جو کبھی سمندری طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب جدید ہتھیاروں کے دور میں بڑے اور مہنگے اہداف بھی بن سکتے ہیں۔

اسی طرح امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنے تجزیوں میں اس بات پر توجہ دلائی کہ اربوں ڈالر مالیت کے جدید جنگی اثاثوں کو درپیش خطرات عسکری منصوبہ بندی میں نئی سوچ کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔ بعض دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں رفتار، ٹیکنالوجی اور غیر روایتی حکمت عملیوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب کچھ بین الاقوامی میڈیا اداروں اور تجزیاتی پلیٹ فارمز نے اس صورتحال کو مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ کشیدگی نے خطے میں فوجی حکمت عملیوں اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس صورتحال نے امریکہ کے اتحادی ممالک میں بھی خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کا انحصار طویل عرصے سے امریکی عسکری موجودگی پر رہا ہے۔

اسی دوران برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سمندری طاقت کے تصور میں تبدیلی آ رہی ہے، جہاں روایتی بحری بیڑوں کے ساتھ ساتھ میزائل سسٹمز، ڈرون ٹیکنالوجی اور سائبر جنگ جیسے عوامل بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تاہم دفاعی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ طیارہ بردار بحری جہاز اب بھی عالمی بحری طاقت کا اہم حصہ ہیں اور امریکہ سمیت کئی ممالک انہیں اپنی فوجی حکمت عملی کا بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق حالیہ بحث دراصل اس وسیع تر سوال کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید دور میں جنگی حکمت عملی کس سمت جا رہی ہے اور مستقبل کی جنگوں میں کون سی ٹیکنالوجیز فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button