ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز میں برطانوی جنگی جہاز بھیجنے سے انکار، کیئر اسٹارمر نے ٹرمپ کی درخواست مسترد کر دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث کسی “وسیع جنگ” میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا جس میں واشنگٹن نے برطانوی جنگی جہاز آبنائے ہرمز بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔

لندن میں ڈاؤننگ اسٹریٹ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور جنگ کا جلد از جلد خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران جتنا زیادہ طویل ہوگا، اتنا ہی عالمی معیشت اور گھریلو اخراجات پر اس کے منفی اثرات بڑھیں گے۔

انہوں نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے حل کے لیے سفارتی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسا قابلِ عمل منصوبہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو خطے میں جہاز رانی کی آزادی بحال کر سکے۔

ٹرمپ کا دباؤ اور اتحادیوں کا محتاط ردعمل

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں فوجی موجودگی بڑھائیں تاکہ عالمی تجارتی جہازوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم برطانیہ سمیت فرانس، جرمنی، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فوری طور پر جنگی جہاز بھیجنے کے امکان کو مسترد یا مؤخر کر دیا ہے۔

ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا کہ امریکہ یاد رکھے گا کہ کون سے اتحادی اس مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اتحادیوں کے ردعمل کا اثر مستقبل میں نیٹو تعاون اور یوکرین کی حمایت جیسے معاملات پر پڑ سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے میں خلل پیدا ہونے سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور ماہرین عالمی معاشی دباؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

برطانوی مؤقف: محتاط حکمت عملی

اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ فی الحال کسی بڑے فوجی اقدام کا فیصلہ نہیں کر رہا، تاہم خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ ممکنہ طور پر بارودی سرنگوں کی تلاش کے لیے جدید ڈرون یا خودکار زیرِ آب گاڑیوں کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کی تشویش

برطانیہ کے سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل نک کارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانوی جنگی جہاز آبنائے ہرمز بھیجے گئے تو انہیں سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے پاس ساحلی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی موجود ہے جو اس تنگ بحری راستے میں جہازوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

توانائی بحران کا خدشہ

دوسری جانب توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل اور گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ برطانوی حکومت کے سابق مشیر نک بٹلر نے خبردار کیا کہ بدترین صورتحال میں بعض ممالک کو توانائی کی راشن بندی جیسے اقدامات پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی اتحادوں کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایسے میں سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی کو خطے اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button