
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک پرانی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تقریباً چار دہائیاں قبل ایران کے خلاف ممکنہ جنگ سے متعلق خیالات کا اظہار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو 1987 کے ایک انٹرویو کی ہے، جس میں ٹرمپ نے اس وقت ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنانے اور اس کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران امریکہ کو نقصان پہنچائے تو اس کے اہم تیل کے مراکز پر قبضہ کر کے نقصانات کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب وہ عملی سیاست میں شامل نہیں تھے، تاہم آج کی صورتحال سے ان خیالات کی مماثلت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی حالات میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں کسی حد تک انہی پرانے خیالات کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

اس انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، جو عالمی سطح پر اثرات مرتب کرے گی۔ آج کے حالات میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں بے چینی ان خدشات کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کا دوبارہ سامنے آنا نہ صرف سیاسی بحث کو تیز کر رہا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عالمی طاقتوں کی پالیسیوں میں بعض خیالات طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔

دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز اور بیانات کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ہر دور کی سیاسی اور فوجی حکمت عملی مختلف ہوتی ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ توانائی کے وسائل، خاص طور پر تیل، ہمیشہ سے خطے کی سیاست کا اہم محور رہے ہیں۔
1987 کی پرانی ویڈیو میں ٹرمپ کے بیانات نے موجودہ ایران-امریکہ کشیدگی کے تناظر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ماضی کی سوچ اور آج کی پالیسیوں کے درمیان حیران کن مماثلت دیکھی جا رہی ہے، جبکہ خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔



