
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران ایک نئی رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر ایک مہلک حملے میں چند لمحوں کے فرق سے محفوظ رہے۔ لیک ہونے والی آڈیو کے مطابق حملے کے وقت وہ اپنے گھر کے اندر موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق یہ حملہ 28 فروری کو تہران میں اس کمپاؤنڈ پر کیا گیا جہاں ایران کی اعلیٰ قیادت موجود تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی حملے میں سابق سپریم لیڈر ہلاک ہوئے، جبکہ نئے رہنما معمولی زخمی ہوئے۔ لیک آڈیو میں کہا گیا ہے کہ وہ عین وقت پر باہر نکل گئے تھے، جس کے بعد عمارت کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق حملے میں ان کے قریبی اہلِ خانہ اور اہم سرکاری شخصیات بھی متاثر ہوئیں، جبکہ کمپاؤنڈ کے مختلف حصوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مربوط حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اہداف انتہائی حساس اور اہم تھے۔

تاہم اس لیک آڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اور بعض مبصرین اسے ممکنہ طور پر معلوماتی جنگ یا پروپیگنڈا بھی قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگی حالات میں اس طرح کی معلومات اکثر عوامی رائے کو متاثر کرنے یا اعتماد بحال کرنے کے لیے سامنے لائی جاتی ہیں۔
دوسری جانب نئے ایرانی رہنما کی صحت اور موجودگی کے حوالے سے بھی متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ رپورٹس میں انہیں زخمی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں معلومات تک محدود رسائی اور میڈیا پابندیوں کی وجہ سے افواہیں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جس سے حقیقت اور قیاس آرائی میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس طرح کی خبریں نفسیاتی دباؤ بڑھانے اور سیاسی پیغام دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
ادھر خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں نہ صرف براہِ راست حملے جاری ہیں بلکہ ڈرون اور میزائل حملوں کا دائرہ دیگر ممالک تک بھی پھیل چکا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے حوالے سے سامنے آنے والی لیک آڈیو نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، تاہم تصدیق نہ ہونے کے باعث صورتحال ابہام کا شکار ہے، جبکہ جنگی ماحول میں معلوماتی جنگ بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔



