
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی قیادت سے متعلق افواہوں اور غیر مصدقہ رپورٹس نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض تجزیاتی اور سوشل میڈیا حلقوں میں یہ دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر قومی سلامتی اتمار بین گویر کی صحت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود ہے، تاہم ان دعووں کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔
ان رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو کی حالیہ عوامی عدم موجودگی اور محدود میڈیا سرگرمیوں نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی جگہ ویڈیوز یا بیانات کے ذریعے نمائندگی کی جا رہی ہے، تاہم ماہرین اس حوالے سے احتیاط برتنے پر زور دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ جنگی حالات میں معلوماتی جنگ اور افواہوں کا پھیلاؤ عام بات ہے۔
اسی طرح اتمار بین گویر کے حوالے سے بھی دعوے کیے جا رہے ہیں کہ وہ منظرِ عام سے غائب ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں غیر واضح اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگی حالات میں قیادت کی سیکیورٹی کے پیش نظر عوامی سرگرمیوں کو محدود کرنا ایک عام حکمت عملی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس نوعیت کی افواہیں جنم لیتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات ہمیشہ مصدقہ نہیں ہوتیں اور انہیں تصدیق کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے۔
دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں معلومات پر کنٹرول اور میڈیا پابندیاں بھی غیر یقینی فضا کو بڑھا دیتی ہیں، جس سے افواہوں کو تقویت ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معلوماتی اور نفسیاتی جنگ بھی اس تنازع کا اہم حصہ بن چکی ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی اہم سیاسی شخصیت کے حوالے سے حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے، کیونکہ غیر مصدقہ اطلاعات غلط فہمی اور غیر ضروری تشویش پیدا کر سکتی ہیں۔
نیتن یاہو اور اتمار بین گویر سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹس کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ ماہرین اسے جنگی ماحول میں پھیلنے والی افواہوں اور معلوماتی جنگ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔



