امریکاایرانتازہ ترین

سستے ڈرونز نے جنگ کا نقشہ بدل دیا، بڑی طاقتوں کی برتری کو چیلنج

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید جنگ میں سستی ڈرون ٹیکنالوجی تیزی سے طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہے۔ جہاں ماضی میں فضائی برتری صرف ان ممالک کے پاس ہوتی تھی جو مہنگے جنگی طیارے اور جدید نظام رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے، اب کم لاگت والے ڈرونز نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف جاری "آپریشن ایپک فیوری” میں جدید ترین جنگی طیاروں جیسے F-35، B-2 اور F-22 کے ساتھ ساتھ ڈرونز کا بھی وسیع استعمال کر رہا ہے۔ تاہم اس کے مقابلے میں ایران کی حکمت عملی نسبتاً کم لاگت مگر زیادہ تعداد پر مبنی ہے، جہاں بڑی تعداد میں ڈرونز ایک ساتھ استعمال کیے جا رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے استعمال کردہ ڈرونز، جن کی قیمت چند ہزار ڈالر سے لے کر پچاس ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے، فضائی دفاعی نظام کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو روکنے کے لیے اکثر لاکھوں یا کروڑوں ڈالر مالیت کے میزائل استعمال کرنے پڑتے ہیں، جس سے دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ “لاگت کا عدم توازن” جدید جنگ کا ایک اہم پہلو بن چکا ہے، جہاں حملہ کرنا نسبتاً سستا اور دفاع کرنا مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مہنگا دفاعی میزائل استعمال کر کے ایک کم قیمت ڈرون کو تباہ کرنا طویل مدت میں معاشی دباؤ پیدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکہ بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس میں کم لاگت والے ڈرونز کی تیاری اور لیزر جیسے جدید دفاعی نظام شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگوں میں ایسے ہتھیار زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں جو کم لاگت میں زیادہ دفاعی صلاحیت فراہم کریں۔

عالمی سطح پر بھی اس رجحان کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں یوکرین جیسے تنازعات میں ڈرونز نے جنگ کا انداز بدل دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب جنگی حکمت عملی صرف ٹینکوں اور جنگی طیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈرونز ایک مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

خلاصہ:
سستی ڈرون ٹیکنالوجی نے جدید جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے، جہاں کم وسائل رکھنے والے ممالک بھی بڑی طاقتوں کو چیلنج کر سکتے ہیں، جبکہ دفاعی نظام کے لیے یہ ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button