
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے علی لاریجانی کی ہلاکت کے بعد اسرائیل کے مرکزی علاقوں پر بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مطابق، اسرائیل کے وسطی علاقوں میں 100 سے زائد فوجی اور سکیورٹی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ "علی لاریجانی اور ان کے ساتھیوں کے خون کا بدلہ” لینے کے لیے کیا گیا۔
جدید میزائلوں کا استعمال
ایرانی بیان کے مطابق اس کارروائی میں جدید "خرمشہر-4” اور کثیر وارہیڈ والے "فتح” میزائل استعمال کیے گئے، جو ایک ہی وقت میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ میزائل ایران کی اسٹریٹجک صلاحیت کا اہم حصہ ہیں اور ان کا استعمال خطے میں طاقت کے توازن پر اثر ڈال سکتا ہے۔
نقصانات سے متعلق متضاد دعوے
ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی طور پر 230 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔

دوسری جانب اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق:
- تل ابیب کے علاقے میں کم از کم 2 افراد ہلاک
- متعدد افراد زخمی
- کئی مقامات پر آگ اور تباہی کی اطلاعات
عبرانی میڈیا کے مطابق:
- رامات گن میں شدید آگ اور مالی نقصان
- تل ابیب کا مرکزی ریلوے اسٹیشن جزوی طور پر تباہ، سروس معطل
خطے میں جنگ کا خطرناک پھیلاؤ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ محض ایک ردعمل نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایران اب براہِ راست اسرائیل کو نشانہ بنانے کی پالیسی اختیار کر چکا ہے۔
یہ پیشرفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ:

- حملے بڑے شہری اور سٹریٹجک مراکز پر کیے گئے
- جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال ہوئے
- دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم شدت اختیار کر رہا ہے
عالمی خدشات میں اضافہ
اس صورتحال کے بعد:
- خطے میں مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں
- عالمی طاقتیں فوری جنگ بندی کی اپیل کر سکتی ہیں
- تیل کی عالمی منڈی اور توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے
ابھی تک اسرائیلی حکومت کی جانب سے مکمل ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اس حملے کا سخت جواب دے سکتا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تنازع:
- مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی پھیل سکتا ہے
- عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتا ہے
- بڑی طاقتوں کو براہِ راست مداخلت پر مجبور کر سکتا ہے
فی الحال صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور آنے والے گھنٹے اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے۔



