
آبنائے ہرمز تب کھلی گی جب ایران کی شرائط مانی جائیں گی
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے عالمی نشریاتی ادارے Al Jazeera English کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، جنگ کے خاتمے اور مستقبل کی سفارتی حکمت عملی پر اہم نکات پیش کیے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی عارضی جنگ بندی (سیز فائر) کے بجائے مکمل اور حتمی طور پر جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق جنگ کا خاتمہ صرف ایک محاذ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ Lebanon، Yemen، Iraq اور خود Iran سمیت پورے خطے میں کشیدگی کا خاتمہ ضروری ہے۔
وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ کے بعد پہلا اہم قدم Strait of Hormuz میں گزرگاہ کے لیے ایک نئے بین الاقوامی پروٹوکول کی تیاری ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے عالمی طاقتوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ China سمیت دیگر ممالک کے پاس اس بحران کے حل کے لیے مؤثر صلاحیت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر اس تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہے جو اس کی شرائط اور مطالبات کو پورا کرے۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سوال پر عباس عراقچی نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نیوکلیئر پالیسی میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی سمت کا تعین نئی قیادت کے خیالات سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اپنی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے حالات کے مطابق لچک بھی رکھنا چاہتا ہے۔
پس منظر:
مشرقِ وسطیٰ اس وقت شدید جغرافیائی اور عسکری کشیدگی کا شکار ہے، جہاں مختلف محاذوں پر جاری تنازعات نے عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔ توانائی کی رسد، بحری راستوں کی سیکیورٹی اور نیوکلیئر پروگرام جیسے معاملات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔



